حدیث نمبر: 20204
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَ خُصُومَةٍ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي لَهُ بِمَا أَسْمَعُ، وَأَظُنُّهُ صَادِقًا، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَإِنَّهَا قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا» .
ترجمہ

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا تو آپ ﷺ ان کی طرف نکل کر تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، حالانکہ میں بھی ایک انسان ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، تو میں اسی کے حق میں فیصلہ کر دوں جو سنوں اور اسے سچا سمجھوں۔ پس جس کے حق میں، میں نے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ دے دیا ہو تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے وہ اسے لے لے یا چھوڑ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20204
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 380، حدیث 902