المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو قيس مولى عمرو بن العاص، عن أم سلمة باب: ابوقیس، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهَا، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟، فَإِنْ قَالَتْ: لَا، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ» ، قَالَ أَبُو قَيْسٍ: فَجِئْتُهَا، فَقَالَتْ: أَحُرٌّ أَمْ مَمْلُوكٌ؟ فَقُلْتُ: بَلْ مَمْلُوكٌ، فَقَالَتْ: ادْنُهْ فَدَنَوْتُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو أَرْسَلَنِي إِلَيْكِ لِأَسْأَلَكِ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ؟، فَقَالَتْ: لَا، فَقُلْتُ: إِنَّ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ» ، فَقَالَتْ: لَعَلَّهُ أَنَّهُ كَانَ لَمْ يَكُ يَتَمَالَكُ لَهَا حُبًّا… کیا رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے؟ اگر وہ کہیں: نہیں، تو ان سے کہنا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ ابوقیس بیان کرتے ہیں: تو میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم آزاد ہو یا غلام؟ میں نے کہا: بلکہ غلام ہوں۔ انہوں نے فرمایا: قریب آؤ۔ میں قریب ہوا تو عرض کیا: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے مجھے آپ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا: شاید ان کے ساتھ آپ ﷺ کی محبت کی وجہ سے آپ ﷺ خود پر قابو نہ رکھ پاتے تھے۔