المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو عثمان، عن أم سلمة باب: ابوعثمان کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ رَجُلًا، فَقَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا؟» ، فَقُلْتُ: دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَلَمْ أَعْلَمْ أَنَّهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا، قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک آدمی سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ام سلمہ! یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: دحیہ کلبی۔ مجھے معلوم نہ ہوا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے صحابہ سے وہ باتیں بیان کرتے سنا جو ان دونوں کے درمیان ہوئی تھیں۔