حدیث نمبر: 20055
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي أَرَاكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ؟ قَالَ: «الدَّنَانِيرُ الَّتِي أَتَوْنَا بِهَا، نُسِّيتُهَا فِي خَصْمِ فِرَاشِي، نُسِّيتُ أَنْ أَقْسِمَهَا قَبْلَ أَنْ أُمْسِيَ» .
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ آپ ﷺ کا چہرہ فکرمند تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ میں آپ کو فکرمند دیکھ رہی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اشرفیاں جو ہمارے پاس لائی گئی تھیں، وہ مجھے اپنے بستر کے کونے میں بھول گئیں، مجھے یاد نہ رہا کہ شام ہونے سے پہلے انہیں تقسیم کر دوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20055
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 327، حدیث 751