حدیث نمبر: 20038
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعَثٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَتْ بِهِمْ» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَنْ كَانَ كَارِهًا، قَالَ: «يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ» .
ترجمہ

مہاجر بن قبطیہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، تو اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے میدانِ بیداء میں پہنچیں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! جو شخص ناپسند کرتا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20038
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 321، حدیث 734