حدیث نمبر: 20037
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تُفَلِّي رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَجَعَلَتْ تُكَلِّمُنِي وَأُكَلِّمُهَا وَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْبِلِي عَلَى فِلَايَتِكِ، فَإِنَّكِ لَسْتِ تُكَلِّمِينَهَا بِعَيْنَيْكِ» ، قَالَتْ زَيْنَبُ: فَجَعَلْتُ أَشْكُو ضِيقَ الْمَسْكَنِ، فَقَالَ: هَذَا كَمَا صَنَعَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، لَمْ يَسَعُهَا مَا نَزَلَتْ حَتَّى نَزَلَ عَلَى رَأْسِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَاكَ مَنِ اخْتَطَّ خُطَّةً بِالْمَدِينَةِ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ، فَلَهَا خِطَّتُهَا، فَوَرِثَتْ نَصِيبَهَا مِنْ دَارِ عَبْدِ اللهِ، وَأَحْرَزَتْ دَارَهَا بِالْمَدِينَةِ»
ترجمہ

… سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کا سر سنوار رہی تھی کہ سیدہ زینب، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی زوجہ، آ گئیں، تو وہ مجھ سے باتیں کرنے لگیں اور میں ان سے باتیں کرنے لگی، اور میں نے اپنی نظر ان کی طرف اٹھائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے کام پر متوجہ رہو، تم اسے اپنی آنکھوں سے تو نہیں بلاتیں۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تو میں گھر کی تنگی کی شکایت کرنے لگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ویسا ہی ہے جیسا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے کیا، جتنی جگہ اترتی اسے کافی نہ ہوتی یہاں تک کہ وہ اس کے سر پر آ اتری۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح مہاجر عورتوں میں سے جس نے مدینہ میں کوئی جگہ متعین کر لی، وہ اسی کی مالک ہے“، تو انہوں نے عبداللہ کے گھر میں سے اپنا حصہ وراثت میں پایا، اور مدینہ میں اپنا گھر محفوظ رکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20037
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 321، حدیث 733