حدیث نمبر: 20021
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ لَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ وَمَنْ عَذَابِ النَّارِ وَمَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمَنْ فِتْنَةِ الْغِنَى وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، هَذَا مَا سَأَلَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَسْأَلَةِ وَخَيْرَ الدُّعَاءِ وَخَيْرَ النَّجَاحِ وَخَيْرَ الْعَمَلِ وَخَيْرَ الثَّوَابِ وَخَيْرَ الْحَيَاةِ وَخَيْرَ الْمَمَاتِ وَثَبِّتْنِي وَثَقِّلْ مَوَازِينِي وَأَحِقَّ إِيمَانِي وَارْفَعْ دَرَجَتِي وَتَقَبَّلْ صَلَاتِي وَاغْفِرْ خَطِيئَتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ آمِينَ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَظَاهِرَهُ وَبَاطِنَهُ، وَالدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ آمِينَ، اللهُمَّ وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ وَمَغْفِرَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْمَنْزِلَ الصَّالِحَ مِنَ الْجَنَّةِ آمِينَ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَلَاصًا مِنَ النَّارِ سَالِمًا، وَأَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ آمِنًا، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَارِكَ لِي فِي نَفْسِي وَفِي سَمْعِي وَفِي بَصَرِي وَفِي رُوحِي وَفِي خُلُقِي وَفِي خَلِيقَتِي وَأَهْلِي وَفِي مَحْيَايَ وَفِي مَمَاتِي، اللهُمَّ وَتَقَبَّلْ حَسَنَاتِي، وَأَسْأَلُكَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ آمِينَ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چلنے والی مخلوق کے شر سے جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ سے، سستی سے، آگ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، مالداری کے فتنے سے اور محتاجی کے فتنے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا ہے، اے اللہ! میرے اور میری خطا کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کی ہے۔ یہ وہ دعا ہے جو محمد ﷺ نے اپنے رب سے مانگی۔ اے اللہ! میں تجھ سے بہترین سوال، بہترین دعا، بہترین کامیابی، بہترین عمل، بہترین ثواب، بہترین زندگی اور بہترین موت مانگتا ہوں، اور مجھے ثابت قدم رکھ، میرے میزان کو بھاری کر، میرے ایمان کو سچا کر، میرا درجہ بلند فرما، میری نماز قبول فرما اور میری خطا معاف فرما، اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات مانگتا ہوں، آمین۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر بھلائی کے آغاز، اختتام، جامع پہلو، اول، آخر، ظاہر اور باطن کا سوال کرتا ہوں، اور جنت کے بلند درجات مانگتا ہوں، آمین۔ اے اللہ! مجھے آگ سے نجات دے، اور رات دن کی بخشش اور جنت کا نیک ٹھکانا عطا فرما، آمین۔ اے اللہ! میں تجھ سے سلامتی کے ساتھ آگ سے خلاصی مانگتا ہوں، اور مجھے امن کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں، میرے کان میں، میری آنکھ میں، میری روح میں، میرے اخلاق میں، میری تخلیق میں، میرے اہل میں، میری زندگی میں اور میری موت میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! میری نیکیاں قبول فرما، اور میں تجھ سے جنت کے بلند درجات مانگتا ہوں، آمین۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20021
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 316، حدیث 717