المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو عبيدة بن عبد الله بن زمعة بن الأسود، عن أم سلمة باب: ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ بن اسود کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ مَسَاءُ يَوْمِ النَّحْرِ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْبَ بْنَ زَمْعَةَ، وَرَجُلًا مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ، وَهُمَا مُتَقَمِّصَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: «أَفَضْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «انْزِعْ قَمِيصَكَ» ، قَالَ وَهْبٌ: لِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمٌ أُرَخِّصُ لَكُمْ فِيهِ إِذَا رَمَيْتُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، أَنْ تُحِلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ إِلَّا النِّسَاءَ، فَإِذَا أَمْسَى أَحَدُكُمْ، وَلَمْ يُفِضْ كَانَ كَهَيْأَتِهِ حَرَامًا حَتَّى يُفِيضَ»…فرماتی ہیں: جب قربانی کے دن کی شام ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کے ایک آدمی کو دیکھا، وہ دونوں قمیص پہنے ہوئے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے وہب سے فرمایا: ”اے ابوعبداللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دو۔“ وہب نے عرض کیا: یہ کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں، جب تم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار چکو، تو میں تمہیں حج کی وجہ سے حرام کی گئی ہر چیز سے حلال ہونے کی رخصت دیتا ہوں سوائے عورتوں کے، اور جو شخص شام کو بھی طوافِ افاضہ نہ کرے وہ اسی طرح احرام کی حالت میں رہے گا جب تک طواف نہ کر لے۔“