المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سفينة مولى أم سلمة، عن أم سلمة باب: سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19996
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَاخْلُفْ لِي بِخَيْرٍ مِنْهَا، إِلَّا آجَرَهُ اللهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَخَلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا» فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، ثُمَّ عَزَمَ لِي فَقُلْتُهَا، فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے: بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میری اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور اس سے بہتر بدلہ عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتا ہے۔“ فرماتی ہیں: پھر جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہنے کی توفیق دی تو میں نے یہ دعا پڑھی، چنانچہ بعد میں میرا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہو گیا۔