المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن أم سلمة باب: عبداللہ بن رافع، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19961
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِلْجَنَابَةِ؟، قَالَ: «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَأْخُذِي بِكَفَّيْكِ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى جِلْدَكِ الْمَاءَ، فَتَطْهُرِينَ» .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بالوں کی چوٹی مضبوطی سے باندھتی ہوں، تو کیا جنابت کے غسل کے لیے اسے کھولنا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنی دونوں ہتھیلیوں سے تین چلو (پانی) لو، پھر اپنے جسم پر بہا لو، تو تم پاک ہو جاؤ گی۔“