المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
يعلى بن مملك، عن أم سلمة باب: یعلیٰ بن مملک کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19949
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللهُ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، فَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ»ترجمہ
یعلیٰ بن مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، زوجِ نبی ﷺ، سے نبی کریم ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر تسبیح پڑھتے، پھر اس کے بعد رات میں جتنی اللہ کو منظور ہوتا نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی اتنی ہی دیر سو جاتے، پھر اس نیند سے بیدار ہو کر جتنی دیر سوئے ہوتے اتنی ہی دیر نماز پڑھتے، اور آپ ﷺ کی یہ آخری نماز صبح تک جاری رہتی۔