المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن أم سلمة باب: ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَجِيدِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُخْبِرُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَيَقُولُونَ مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبِ حَتَّى أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمْ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالُوا: أَتَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ يُصَدِّقُونَهَا، وَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا وَضَعَتْ زَيْنَبُ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنِي، فَقُلْتُ: مَا مِثْلِي تُنْكَحُ، أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ: «أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ» فَتَزَوَّجَهَا، فَجَعَلَ يَأْتِيهَا فَيَقُولُ: «أَيْنَ زُنَابُ؟» ، حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَوْمًا فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ زُنَابُ؟» ، قَالَتْ: قُرَيْبَةُ بِنْتُ أُمَيَّةَ، وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا، أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ» ، قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَوَضَعْتُ ثِفَالِي، وَأَخَّرْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا، فَعَصَدْتُهُ لَهُ، قَالَتْ: فَبَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ: «إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي»سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں، تو انہوں نے انہیں جھٹلایا اور کہتے: پردیسی عورتیں کتنا جھوٹ بولتی ہیں! یہاں تک کہ ان میں سے کچھ لوگ حج کو جانے لگے تو انہوں نے کہا: کیا تم اپنے گھر والوں کو خط لکھو گی؟ تو انہوں نے ان کے ہاتھ خط لکھ دیا، پھر وہ لوگ مدینہ واپس آئے تو ان کی تصدیق کر رہے تھے، اور ان کی نظر میں ان کی عزت اور بڑھ گئی۔ وہ کہتی ہیں: پھر جب زینب پیدا ہوئی تو نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے نکاح کا پیغام دیا، میں نے عرض کیا: مجھ جیسی سے نکاح نہیں کیا جاتا، مجھ میں اب اولاد (پیدا کرنے کی صلاحیت) نہیں، اور میں غیرت مند اور بچوں والی عورت ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے بڑا ہوں، رہی غیرت تو اللہ اسے دور کر دے گا، اور بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا۔ آپ ﷺ ان کے پاس آتے تو فرماتے: ”زُناب کہاں ہے؟“ یہاں تک کہ ایک دن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے اور اسے اٹھا لے گئے اور کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کو روکے ہوئے ہے، وہ (ام سلمہ) اسے دودھ پلا رہی تھیں۔ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”زُناب کہاں ہے؟“ قریبہ بنت امیہ نے بتایا اور اس کی تصدیق کی کہ اسے عمار بن یاسر لے گئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں اٹھی، اپنی چکی رکھی، اور ایک برتن میں پڑے جو کے چند دانے نکالے، اور چربی نکالی اور آپ ﷺ کے لیے حلوہ سا تیار کیا۔ وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے رات وہیں گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں کے ہاں عزت والی ہو، اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے سات دن دوں، اور اگر تمہارے لیے سات دن دوں تو اپنی سب بیویوں کے لیے بھی سات سات دن دوں گا۔“