المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم سلمة واسمها هند بنت أبي أمية بن حذيفة بن المغيرة بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم بن نقطة بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، نام ہند بنت ابی امیہ بن حذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم بن نقطہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب تھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهُ: خِلَالٌ فِيٌّ ثَلَاثٌ، أَنَا كَبِيرَةُ السِّنِّ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُطَفَّلٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا السِّنُّ فَأَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْأَطْفَالُ فَهُمْ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَأَدْعُو اللهَ فَيُذْهِبُهَا عَنْكِ» ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: «إِنَّ بِكِ وَبِأَهْلِكِ عَلَيَّ كَرَامَةً، وَإِنِّي لَمْ أُسَبِّعْ لِأَحَدٍ مِنْ نِسَائِي، وَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي»سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے عرض کیا: مجھ میں تین باتیں ہیں: میں عمر میں بڑی ہوں، بچوں والی عورت ہوں اور سخت غیرت مند عورت ہوں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک عمر کی بات ہے تو میں تم سے بڑا ہوں، بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے، اور غیرت کے بارے میں میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا، پھر جب ان کے پاس گئے تو فرمایا: ”تمہارا اور تمہارے گھر والوں کا مجھ پر بڑا احسان ہے، میں نے اپنی کسی بیوی کے لیے سات دن نہیں دیے، لیکن اگر تمہارے لیے سات دن دوں تو اپنی سب بیویوں کے لیے بھی سات سات دن دوں گا۔“