حدیث نمبر: 19788
حَدَّثَنَا أَبُو هَارُونَ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ السِّرَيْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ نَعُودُهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ الْمَخْزُومِيُّ، فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ: أَعِدْ عَلَيَّ حَدِيثَ أُمِّ صَالِحٍ، فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ صَالِحٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ - زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَامُ ابْنِ آدَمَ كُلُّهُ عَلَيْهِ لَا لَهُ إِلَّا أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهْيًا عَنْ مُنْكَرٍ، أَوْ ذِكْرًا لِلَّهِ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَا أَشَدَّ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: وَمَا شِدَّتُهُ أَلَيْسَ قَدْ جَاءَكُمْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: {يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ} [النبأ: ٣٩] ، وَقَالَ: {لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ} [النساء: ١١٤] إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کی ہر بات اس کے خلاف لکھی جاتی ہے، اس کے حق میں نہیں، سوائے نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، یا اللہ کے ذکر کے۔“ اس پر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یہ حدیث کتنی سخت ہے!
سفیان ثوری نے فرمایا: اس میں سختی کیا ہے؟ کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہیں تمہارے رب عزوجل کی طرف سے یہ نہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس دن روح اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے، کوئی بات نہیں کرے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے، یہی برحق دن ہے۔“ [سورۃ النبا: 39] اور فرمایا: ”ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں، سوائے اس کے جو صدقہ دینے، یا نیکی کرنے، یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے“، آیت کے آخر تک۔ [سورۃ النساء: 114]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 243، حدیث 484