المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو سفيان ابن أخت أم حبيبة باب: ابوسفیان، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے، کی ان سے روایت
حدیث نمبر: 19774
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَتَوَضَّأُ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتْ، أَوْ مَسَّتِ النَّارُ»ترجمہ
…وہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، تو انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بھانجے! کیا تم وضو نہیں کرتے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ”جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو، یا جسے آگ نے چھوا ہو، اس سے وضو کر لیا کرو۔“