المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حميد بن نافع، عن زينب باب: حمید بن نافع کی زینب سے روایات
حدیث نمبر: 19730
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ: أَتَكْتَحِلُ الْمَرْأَةُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا؟، فَقَالَتْ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً، ثُمَّ تَقْذِفُ بِبَعْرَةٍ، فَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَمْضِيَ الْأَجَلُ» .ترجمہ
ایک عورت نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کی وفات کی عدت میں سرمہ لگا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے آپ ﷺ سے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی عورت زمانہ جاہلیت میں جب اس کا شوہر فوت ہو جاتا تو ایک سال تک سوگ میں رہتی، پھر مینگنی پھینک دیتی، تب عدت پوری سمجھی جاتی تھی، جبکہ اسلام میں یہ مدت صرف چار مہینے دس دن ہے، اسی مدت کے گزرنے تک عدت رہتی ہے۔“