المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه وسلم عائشة باب: حدیثِ ام زرع کی سندیں، اور نبی کریم ﷺ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حسنِ سلوک
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الجَوَّازُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّاسِبِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو نَافِعٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَخُرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُتِي يَا عَائِشَةُ فَإِنِّي كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ» ، ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، «أَنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً اجْتَمَعْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَتَعَاهَدْنَ لَتُخْبِرَنَّ كُلُّ امْرَأَةٍ بِمَا فِي زَوْجِهَا وَلَا تَكْذِبُ» ، قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: اللَّيْلُ لَيْلُ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا بَرْدٌ وَلَا مَخَافَةَ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَأَغْلِبُهُ وَالنَّاسَ يَغْلِبُ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ لَرَفِيعُ الْعِمَادِ، طَوِيلُ النِّجَادِ، عَظِيمُ الرَّمَادِ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: نَكَحْتُ مَالِكًا وَمَا مَالِكٌ؟ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَسَارِحِ، قَلِيلَاتُ الْمَبَارِكِ، إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمَزَاهِرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: زَوْجِي أَذْكُرُهُ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، أَخْشَى أَنْ لَا أَذَرَهُ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِذَا دَخَلَ فَهِدَ، وَإِذَا خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ . قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى جَبَلٍ لَا بِالسَّمِينِ فَيُنْتَقَلُ، وَلَا بِالسَّهْلِ فَيُرْتَقَى إِلَيْهِ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ إِذَا أَكَلَ لَفَّ، وَإِذَا شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِذَا ذَبَحَ اغْتَثَّ، وَإِذَا نَامَ الْتَفَّ، وَلَا يَدْخُلُ الْكَفَّ فَيَعْلَمَ الْبَثَّ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: نَكَحْتُ الْعَشَنَّقَ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَوَاءٌ، شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ، أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ. قِيلَ: «أَنْتِ يَا فُلَانَةُ» . قَالَتْ: نَكَحْتُ أَبَا زَرْعٍ، وَمَا أَبُو زَرْعٍ؟ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدِيَّ، وَبَجَّحَ نَفْسِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ، وَجَدَنِي فِي غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي بَيْنَ حَائِلٍ وَصَائِلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَأَنَا أَنَامُ عِنْدَهُ فَأَتَصَبَّحُ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، وَأَنْطِقُ فَلَا أَتَقَبَّحُ. ابْنُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ؟ مَضْجَعُهُ مَسَلُّ الشَّطْبَةِ، وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ. بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ؟ مِلْءُ إِزَارِهَا، وَزَيْنُ أَبِيهَا، وَزَيْنُ أُمِّهَا، وَخَيْرُ جَارَتِهَا. جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ وَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ لَا تُخْرِجُ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُهْلِكُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِي أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَإِذَا هُوَ بِأُمِّ غُلَامَيْنِ كَالسَّقْرَيْنِ، فَتَزَوَّجَهَا أَبُو زَرْعٍ وَطَلَّقَنِي، فَاسْتَبْدَلْتُ وَكُلُّ بَدَلٍ أَعْوَرُ، فَنَكَحْتُ شَابًّا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَعْطَانِي نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ سَائِمَةٍ زَوْجًا، فَقَالَ: امْتَارِي يَا أُمَّ زَرْعٍ مِيرِي أَهْلَكِ، فَجَمَعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمْ يَمْلَأْ أَصْغَرَ وِعَاءٍ مِنْ أَوْعِيَةِ أَبِي زَرْعٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَلْ أَنْتَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي زَرْعٍ .…عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، فرماتی ہیں: میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال پر فخر کیا، جو تقریباً دس لاکھ اوقیہ کے برابر تھا، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”خاموش ہو جاؤ عائشہ! میں تمہارے لیے ایسا ہی تھا جیسے ابوزرع، ام زرع کے لیے تھا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے بیان کرنا شروع کیا کہ گیارہ عورتیں زمانہ جاہلیت میں جمع ہوئیں اور آپس میں عہد کیا کہ ہر عورت اپنے شوہر کے بارے میں بتائے گی اور جھوٹ نہیں بولے گی۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: (میرا شوہر) تہامہ کی رات کی طرح ہے، نہ گرم، نہ سرد، نہ کوئی خوف۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: (میرے شوہر کی) خوشبو زرنب کی خوشبو ہے، اور اس کا لمس خرگوش جیسا (نرم) ہے، اور میں اسے قابو میں رکھتی ہوں جبکہ وہ (دوسرے) لوگوں پر غالب آتا ہے۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہی جانتی ہوں کہ وہ بلند ستون والا، لمبے پٹے والا، بہت زیادہ راکھ والا، اور اس کا گھر مجلس کے قریب ہے۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: میں نے مالک سے نکاح کیا، اور مالک کیا ہے! اس کے پاس اونٹ ہیں جو زیادہ تر چرنے جاتے ہیں، کم ہی گھر بیٹھے رہتے ہیں، جب وہ ساز کی آواز سنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں کہ وہ ذبح ہونے والے ہیں۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: میرا شوہر — میں اس کا ذکر کرتی ہوں، اگر اس کا ذکر کروں تو اس کے چھوٹے بڑے سب عیب بیان کرنے پڑیں گے، مجھے ڈر ہے کہ میں اسے مکمل بیان نہ کر پاؤں۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہی جانتی ہوں کہ وہ جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو نرم چیتے کی طرح ہوتا ہے، اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر بن جاتا ہے، اور جو چھوڑ گیا اس کے بارے میں نہیں پوچھتا۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: (میرا شوہر) پہاڑ پر (رکھے ہوئے) دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے، نہ اتنا موٹا کہ اسے اتارا جائے اور نہ اتنا نرم کہ اس تک چڑھا جائے۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہی جانتی ہوں کہ وہ اگر کھاتا ہے تو سب سمیٹ لیتا ہے، اور اگر پیتا ہے تو سب پی جاتا ہے، اور اگر ذبح کرتا ہے تو دبلا جانور چن لیتا ہے، اور اگر سوتا ہے تو (کمبل میں) لپٹ جاتا ہے، اور ہاتھ اندر ڈال کر میرا دکھ معلوم نہیں کرتا۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: میں نے عشنق سے نکاح کیا، اگر بولوں تو طلاق دے دیتا ہے، اور اگر خاموش رہوں تو مجھے لٹکا دیتا ہے۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: وہ لاغر اور ناکارہ ہے، ہر عیب اس میں ہے، وہ تمہیں زخمی کر دے، یا تمہارا کوئی عضو توڑ ڈالے، یا دونوں اکٹھے کر دے۔
کہا گیا: تم بتاؤ، اے فلاں! اس نے کہا: میں نے ابوزرع سے نکاح کیا، اور ابوزرع کیا ہے! اس نے میرے کانوں کو زیورات سے لٹکایا، اور میرے دونوں بازوؤں کو چربی سے بھر دیا، اور مجھے خوش کیا تو میں بھی خوش ہو گئی، اس نے مجھے ایک تنگ دست، تھوڑی بکریوں والے کنبے میں پایا تھا، پھر مجھے ایسے ماحول میں لے آیا جہاں گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اونٹوں کی آواز، فصل گاہنے اور اناج صاف کرنے والوں کی رونق تھی، تو میں اس کے ہاں سوتی ہوں اور دیر تک آرام سے جاگتی ہوں، اور پیتی ہوں اور خوب آسودہ ہوتی ہوں، اور جو بات کہتی ہوں اس پر مجھے کوئی طعنہ نہیں دیا جاتا۔ ابوزرع کا بیٹا، اور ابوزرع کا بیٹا کیا ہے! اس کا سونے کا انداز (پتلی) کھجور کی چھڑی جیسا ہے، اور اسے ایک میمنے کی کلائی کا گوشت سیر کر دیتا ہے۔ ابوزرع کی بیٹی، اور ابوزرع کی بیٹی کیا ہے! اپنی اوڑھنی بھر دینے والی، اپنے والد کی زینت، اپنی والدہ کی زینت، اور اپنی سوکن کے لیے بہترین (مثال)۔ ابوزرع کی خادمہ، اور ابوزرع کی خادمہ کیا ہے! ہماری باتیں پھیلا کر ضائع نہیں کرتی، اور ہمارا سامان بکھیر کر ضائع نہیں کرتی۔
ایک دن ابوزرع میرے پاس سے نکلا جبکہ دودھ کی مشکیں بلوئی جا رہی تھیں، تو اس کی نظر ایک ایسی عورت پر پڑی جس کے دو بیٹے باز جیسے (پھرتیلے) تھے، تو ابوزرع نے اس سے نکاح کر لیا اور مجھے طلاق دے دی۔ میں نے (اس کا) بدل تلاش کیا، اور ہر بدل میں کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے۔ میں نے ایک بارعب جوان سے نکاح کیا، وہ ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوتا، خطی نیزہ اٹھائے رکھتا، اور مجھے بہت سے مویشی دیے، اور مجھے ہر قسم کے چرنے والے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا دیا، اور کہا: اے ام زرع! سامان لو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔ میں نے یہ سب جمع کیا تو وہ ابوزرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن کو بھی نہ بھر پایا۔“
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بلکہ آپ ابوزرع سے بہتر ہیں۔