المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوا في الدنيا والآخرة الآية باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’بے شک جو پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں لعنت کیے گئے‘ کی آیت کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19530
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خُصَيْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ قَوْلِهِ: {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ} [النور: ٢٣] كُلُّ مَنْ قَذَفَ مُحْصَنَةً لَعَنَهُ اللهُ، قَالَ: «لَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي شَأْنِ عَائِشَةَ»ترجمہ
…راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ کیا اس آیت ”بےشک جو لوگ پاکدامن، بےخبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی“ [سورۃ النور: 23] کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کسی پاکدامن عورت پر تہمت لگائے اللہ اس پر لعنت کرے؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ آیت خاص طور پر سیدہ عائشہ کے معاملے میں نازل ہوئی ہے۔