❮
❯
حدیث نمبر: 19527
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا أَبِي سَعْدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ الْعَوَقِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} الْآيَةَ، قَالَ: " كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَوْا عَائِشَةَ بِالْقَبِيحِ، وَأَفْشَوْا بِهِ وَتَكَلَّمُوا بِهِ، وَأَقْسَمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَتَصَدَّقَ عَلَى رَجُلٍ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا وَلَا يَصِلُهُ، فَقَالَ: لَا يُقْسِمُ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يَصِلُوا أَرْحَامَهُمْ، وَأَنْ يُعْطُوهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ كَالَّذِي كَانُوا يَفْعَلُونَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ اللهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَأَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ "
ترجمہ

عطیہ العوفی رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں: “اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے لوگ قسم نہ کھائیں” [النور: 22]، فرمایا: نبی کریم ﷺ کے کچھ صحابہ نے سیدہ عائشہ پر بری بات کی تہمت لگائی تھی، اسے پھیلایا اور اس کے بارے میں باتیں کیں، تو رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ نے قسم کھا لی — ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے — کہ جس نے اس بارے میں کچھ کہا اسے نہ صدقہ دیں گے اور نہ اس سے صلہ رحمی کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم میں سے فضیلت اور وسعت والے لوگ قسم نہ کھائیں کہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی نہیں کریں گے اور اپنے اموال میں سے انہیں نہیں دیں گے، جیسا کہ وہ اس سے پہلے کیا کرتے تھے، اللہ نے انہیں حکم دیا کہ انہیں معاف کر دیں اور ان سے درگزر کریں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19527
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 150، حدیث 223