المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَجِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ حِينَ رَجَعَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ، قَالَتْ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ نَظَرًا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ؟، قَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أُلَيِّنَهُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ، فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدَّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ، ثُمَّ وَضَعَهُ، وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي، فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ، وَهُوَ يَقُولُ: «بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ» ، فَقُلْتُ: خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، قَالَتْ: وَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس دن جب رسول اللہ ﷺ مسجد سے واپس آئے تو آپ ﷺ کو تکلیف ہوئی اور آپ ﷺ میری گود میں لیٹ گئے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں ایک سبز (تازہ) مسواک تھی۔ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس کے ہاتھ کی طرف (غور سے) دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ اسے چاہتے ہیں، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے اسے لے کر آپ ﷺ کے لیے چبایا یہاں تک کہ نرم کر دیا، پھر آپ ﷺ کو دے دیا، تو آپ ﷺ نے اس سے اتنی زور سے مسواک کی جتنا میں نے آپ ﷺ کو اس سے پہلے کبھی مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر اسے رکھ دیا۔ اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں بھاری ہو رہے ہیں، تو میں نے آپ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو آپ ﷺ کی نظر ٹھہر گئی تھی، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”بلکہ جنت کا بلند رفیق۔“ تو میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ کو اختیار دیا گیا تو آپ نے (اسے) چن لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔