حدیث نمبر: 19331
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِحِرَاءَ، فَقَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ جَاءَتْ بِحَيْسٍ فِي غَزْرَتِهَا، فَقُلْ لَهَا إِنَّ اللهَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاءَتْ قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ أَعْلَمَنِي بِكِ وَبِالْحَيْسِ الَّذِي فِي غَزْرَتِكِ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ، وَقَالَ: اللهُ يُقْرِئُهَا السَّلَامَ "، فَقَالَتْ: هُوَ السَّلَامُ وَمِنْهُ السَّلَامُ وَعَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ
ترجمہ

سعید بن کثیر بیان کرتے ہیں: جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ اس وقت غار حرا میں تھے، اور کہا: ”یہ خدیجہ اپنے برتن میں حیس (کھجور، گھی اور پنیر ملا ہوا کھانا) لے کر آ رہی ہیں، تو انہیں بتا دیں کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے۔“ چنانچہ جب وہ آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جبریل نے تمہارے اور تمہارے برتن میں موجود حیس کے بارے میں مجھے تمہارے آنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا، اور کہا کہ اللہ تمہیں سلام کہتا ہے۔“ اس پر انہوں نے کہا: وہی سلام ہے اور اسی کی طرف سے سلام ہے، اور جبریل پر بھی سلام ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19331
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 15، حدیث 25