المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
مناقب خديجة رضي الله عنها باب: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے فضائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ وَقَدْ أَخْلَفَ اللهُ لَكَ مِنْ خَدِيجَةَ عَجُوزٌ حَمْرَاءُ الشِّدْقَيْنِ قَدْ هَلَكَتْ فِي دَهْرٍ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَالَ: «إِنَّ اللهَ رَزَقَهَا مِنِّي مَا لَمْ يَرْزُقْ أَحَدًا مِنْكُنَّ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اعْفُ عَنِّي عَفَا اللهُ عَنْكَ، وَاللهِ لَا تَسْمَعُنِي أَذْكُرُ خَدِيجَةَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُهُسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بہت زیادہ ذکر کیا کرتے تھے، تو میں نے کہا: آپ خدیجہ کا کتنا زیادہ ذکر کرتے ہیں! حالانکہ اللہ نے آپ کو خدیجہ کا بدل عطا فرما دیا ہے، (وہ تو) سرخ باچھوں والی ایک بڑھیا تھیں جو ایک زمانہ ہوا فوت ہو چکی ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کو ایسا غصہ آیا کہ میں نے آپ ﷺ کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے انہیں مجھ سے وہ کچھ عطا کیا جو تم میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے معاف فرما دیں، اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد آپ کبھی مجھ سے خدیجہ کا کوئی ایسا ذکر نہیں سنیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔