حدیث نمبر: 19306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَسَدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَفِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ عَفِيفٍ وَكَانَ أَخَا الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ لِأَبِيهِ قَالَ: وَرَدْتُ مَكَّةَ لِأَبْتَاعَ لِأَهْلِي مِنْ طِيبِهَا وَعِطْرِهَا، فَأَوَيْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَ رَجُلًا تَاجِرًا، فَأَنَا عِنْدَهُ، وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِذْ جَاءَ شَابٌّ فَقَلَّبَ بَصَرَهُ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِبَصَرِهِ قِبَلَ الْكَعْبَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ غُلَامٌ فَقَامَ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَامَتْ خَلْفَهُمَا فَكَبَّرَ الشَّابُّ فَكَبَّرَا، فَرَكَعَ فَرَكَعَا، فَسَجَدَ فَسَجَدَا، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ، أَمْرٌ عَظِيمٌ، قَالَ الْعَبَّاسُ: «أَمْرٌ عَظِيمٌ، هَلْ تَعْلَمُ مَنِ الشَّابِّ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي، هَلْ تَعْلَمُ مَنِ الْمَرْأَةُ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «هَذِهِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى سَيِّدَةُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ زَوْجُ ابْنِ أَخِي، وَهَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ابْنِ أَخِي زَعَمَ ابْنُ أَخِي هَذَا أَنَّ رَبَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَمَرَهُ بِهَذَا الدِّينِ وَاللهِ مَا أَعْرِفُ أَحَدًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ عَلَى هَذَا الدِّينِ غَيْرَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: تھوڑی دیر بعد ایک عورت آئی اور ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ نوجوان نے تکبیر کہی تو دونوں نے (بھی) تکبیر کہی، اس نے رکوع کیا تو دونوں نے رکوع کیا، اس نے سجدہ کیا تو دونوں نے سجدہ کیا۔ پھر اس نے کہا: اے عباس! یہ تو بہت بڑا معاملہ ہے۔ عباس نے کہا: ”واقعی بہت بڑا معاملہ ہے، کیا تم جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ”یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب، میرا بھتیجا ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ عورت کون ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ”یہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں، قریش کی عورتوں کی سردار، میرے بھتیجے کی بیوی، اور یہ علی بن ابی طالب، میرا بھتیجا ہے۔ میرے اس بھتیجے کا دعویٰ ہے کہ اس کے رب، آسمانوں اور زمین کے رب نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے، اور اللہ کی قسم! میں روئے زمین پر ان تینوں کے سوا کسی کو اس دین پر نہیں جانتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19306
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 452، حدیث 1103