المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة وسنها ووفاتها ومن أخبارها باب: رسول اللہ ﷺ کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، ان کی عمر، وفات اور احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ قَالَ: ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَسَدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَفِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ عَفِيفٍ وَكَانَ أَخَا الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ لِأَبِيهِ قَالَ: وَرَدْتُ مَكَّةَ لِأَبْتَاعَ لِأَهْلِي مِنْ طِيبِهَا وَعِطْرِهَا، فَأَوَيْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَ رَجُلًا تَاجِرًا، فَأَنَا عِنْدَهُ، وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِذْ جَاءَ شَابٌّ فَقَلَّبَ بَصَرَهُ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِبَصَرِهِ قِبَلَ الْكَعْبَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ غُلَامٌ فَقَامَ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَامَتْ خَلْفَهُمَا فَكَبَّرَ الشَّابُّ فَكَبَّرَا، فَرَكَعَ فَرَكَعَا، فَسَجَدَ فَسَجَدَا، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ، أَمْرٌ عَظِيمٌ، قَالَ الْعَبَّاسُ: «أَمْرٌ عَظِيمٌ، هَلْ تَعْلَمُ مَنِ الشَّابِّ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي، هَلْ تَعْلَمُ مَنِ الْمَرْأَةُ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «هَذِهِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى سَيِّدَةُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ زَوْجُ ابْنِ أَخِي، وَهَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ ابْنِ أَخِي زَعَمَ ابْنُ أَخِي هَذَا أَنَّ رَبَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَمَرَهُ بِهَذَا الدِّينِ وَاللهِ مَا أَعْرِفُ أَحَدًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ عَلَى هَذَا الدِّينِ غَيْرَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ»سیدنا عفیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اشعث بن قیس کے باپ شریک بھائی تھے، وہ کہتے ہیں: میں مکہ آیا تاکہ اپنے گھر والوں کے لیے وہاں کی خوشبو اور عطر خریدوں، تو میں عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ٹھہرا، اور وہ ایک تاجر آدمی تھے۔ میں ان کے پاس تھا، سورج نکل چکا تھا، اور میں دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک نوجوان آیا، اس نے آسمان کی طرف نظر گھمائی، پھر کعبہ کی طرف رخ کر کے نظر جما دی۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک لڑکا آیا اور اس کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا، پھر تھوڑی دیر بعد ایک عورت آئی اور ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ نوجوان نے تکبیر کہی تو دونوں نے (بھی) تکبیر کہی، اس نے رکوع کیا تو دونوں نے رکوع کیا، اس نے سجدہ کیا تو دونوں نے سجدہ کیا۔ پھر (عفیف نے) کہا: اے عباس! یہ تو بہت بڑا معاملہ ہے۔ عباس نے کہا: ”واقعی بہت بڑا معاملہ ہے، کیا تم جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ”یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب، میرا بھتیجا ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ عورت کون ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ”یہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ ہیں، قریش کی عورتوں کی سردار، میرے بھتیجے کی بیوی، اور یہ علی بن ابی طالب، میرا بھتیجا ہے۔ میرے اس بھتیجے کا دعویٰ ہے کہ اس کے رب، آسمانوں اور زمین کے رب نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے، اور اللہ کی قسم! میں روئے زمین پر ان تینوں کے سوا کسی کو اس دین پر نہیں جانتا۔“