المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة وسنها ووفاتها ومن أخبارها باب: رسول اللہ ﷺ کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، ان کی عمر، وفات اور احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: اجْتَمَعَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ مَعَ صَفِيَّةَ بَعْدَ خَدِيجَةَ مَاتَ عَنْهُنَّ كُلُّهُنَّ، قَالَ: وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ امْرَأَتَيْنِ سِوَى التِّسْعِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كِلْتَاهُمَا جَمَعَ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا تُدْعَى أُمَّ الْمَسَاكِينِ، وَكَانَتْ خَيْرَ نِسَائِهِ لِلْمَسَاكِينِ، وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي الْجَوْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَطَلَّقَهَا وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كِنْدَةَ، وَلَمْ يَجْمَعْهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ عُمَرُ بَيْنَهُمَا، وَضَرَبَ زَوْجَهَا، فَقَالَتْ: اتَّقِ اللهَ يَا عُمَرُ، إِنْ كُنْتُ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَاضْرِبْ عَلَيَّ الْحِجَابَ وَأَعْطِنِي مَا أَعْطَيْتَهُنَّ، فَقَالَ: «أَمَا هُنَالِكَ فَلَا» ، قَالَتْ: فَدَعْنِي أَنْكِحْ، قَالَ: «لَا، وَلَا نِعْمَةَ، وَلَا أُطْمِعُ فِي ذَلِكَ أَحَدًا»ابن ابی ملیکہ اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس سیدہ صفیہ سمیت نو بیویاں جمع تھیں، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد، آپ ﷺ کی وفات ان سب کے نکاح میں ہونے کی حالت میں ہوئی۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ان نو کے علاوہ بنو عامر بن صعصعہ کی دو مزید عورتوں کا اضافہ کیا، دونوں سے نکاح کیا گیا تھا، ان میں سے ایک ام المساکین کہلاتی تھیں، اور وہ مسکینوں کے لیے آپ ﷺ کی بیویوں میں سب سے زیادہ خیر خواہ تھیں۔ آپ ﷺ نے بنو جون کی ایک عورت سے بھی نکاح کیا، تو جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئی تو اس نے آپ ﷺ سے پناہ مانگی، تو آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے کندہ کی ایک عورت سے بھی نکاح کیا مگر اس سے رخصتی نہ کی، تو اس نے نبی کریم ﷺ کے بعد نکاح کر لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور اس کے شوہر کو مارا پیٹا۔ اس نے کہا: اے عمر! اللہ سے ڈرو، اگر میں امہات المومنین میں سے ہوں تو میرے لیے پردہ مقرر کرو اور مجھے وہی دو جو تم نے ان کو دیا ہے۔ عمر نے کہا: ”یہ تو نہیں ہو سکتا۔“ اس نے کہا: تو پھر مجھے نکاح کرنے دو۔ عمر نے کہا: ”نہیں، اور نہ ہی کوئی رعایت دی جائے گی، اور نہ میں کسی کو اس کا لالچ دلاؤں گا۔“