المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زهير بن معاوية، عن سماك باب: زہیر بن معاویہ کی سماک سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ يُهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاعُ وَهُوَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ يَبْعَثُ إِلَيْهِ فَضْلَ مَا يَأْكُلُ، فَأَتَتْهُ قَصْعَةٌ فَأَرْسَلَ بِهَا كَمَا هِيَ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهَا شَيْءٌ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى أَعْلَمَ لِمَ تَرَكَهَا؟ قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَدَخَلَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا مِنْ عِنْدِكَ شَيْءٌ إِلَّا أَكَلْتَ مِنْهُ غَيْرَ هَذِهِ الْقَصْعَةِ لَا أَدْرِي مَا شَأْنُهَا؟ قَالَ: «كَانَ فِيهَا ثُومٌ فَكَرِهْتُ رِيحَهُ، أَمَا إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ رِيحَهُ» قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ إِذًا، قَالَ: «فَأَنْتَ أَبْصَرُ»سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو، جبکہ آپ ﷺ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر میں مقیم تھے، پیالے تحفے میں بھیجے جاتے تھے، تو آپ ﷺ اپنے کھانے کا بچا ہوا حصہ ان کی طرف بھیج دیتے تھے۔ ایک بار آپ ﷺ کے پاس ایک پیالہ آیا تو آپ ﷺ نے اسے ویسے ہی بھیج دیا، اس میں سے کچھ کم نہیں کیا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: مت کھاؤ جب تک مجھے معلوم نہ ہو جائے کہ آپ ﷺ نے اسے کیوں چھوڑا۔ پھر انہوں نے اجازت لے کر حاضری دی اور عرض کیا: آپ کی طرف سے جو کچھ بھی ہمارے پاس آتا ہے آپ ﷺ اس میں سے تناول فرماتے ہیں سوائے اس پیالے کے، مجھے نہیں معلوم اس کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں لہسن تھا، مجھے اس کی بو ناپسند تھی، ورنہ اس میں کوئی حرج نہیں، بس مجھے اس کی بو ناپسند تھی۔“ انہوں نے کہا: تو پھر میں بھی وہی ناپسند کروں گا جو آپ ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خود بہتر جانتے ہو۔“