حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ثنا سِمَاكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ يَنْتَهِرُ شَيْئًا قُدَّامَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: «ذَاكَ شَيْطَانٌ ألْقَى عَلَى قَدَمِي شَرَرًا مِنْ نَارٍ لِيَفْتِنَنِي عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: «وَقَدِ انْتَهَرْتُهُ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»
ترجمہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے سامنے کسی چیز کو جھڑکنے لگے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک شیطان تھا، اس نے میرے پاؤں پر آگ کا انگارہ پھینکا تھا تاکہ مجھے نماز سے ہٹا دے۔“ اور فرمایا: ”میں نے اسے جھڑک دیا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دیتا، یہاں تک کہ مدینے کے بچے اسے دیکھنے کے لیے اس کے گرد جمع ہو جاتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1926
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 227، حدیث 1939