المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر سن زينب ووفاتها ومن أخبارها باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عمر، وفات اور احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَاسِمُ وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ثُمَّ زَيْنَبُ، قَالَ: وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا، وَأُمَامَةَ، كَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي غَاضِرَةِ فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ، وَأَيُّمَا كَافِرٍ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ» ، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلُ، قَالَ: تُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ابْنُ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ…اس سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے ہاں علی اور امامہ کو جنم دیا۔ علی بنو غاضرہ میں دودھ پی رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھڑایا جبکہ ان کے والد اس وقت مشرک تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی چیز میں میرا شریک ہو تو میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اور جو کافر کسی مسلمان کے ساتھ کسی چیز میں شریک ہو تو وہ مسلمان اس کا زیادہ حقدار ہے۔“ زبیر بن بکار کہتے ہیں: مجھے عمر بن ابی بکر مؤمل نے بتایا کہ علی بن ابی العاص بن ربیع، جو سیدہ زینب بنت رسول اللہ ﷺ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے، بلوغت کے قریب فوت ہو گئے، اور رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا۔