المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روت عائشة أم المؤمنين، عن فاطمة رضي الله عنهما باب: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے جو روایت کی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا: اسْتَخَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ، ثُمَّ تَبْكِينَ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حَزَنٍ، فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ؟ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: إِنَّهُ أَسََرَّ إِلَيَّ فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَإِنَّكَ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ» فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: «أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءَ الْمُسْلِمِينَ» فَضَحِكَتُ لِذَلِكَزکریا بن ابی زائدہ، فراس سے، شعبی سے، مسروق سے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس طرح چلتی ہوئی آئیں کہ گویا ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال جیسی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید، میری بیٹی۔“ اور انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھایا، پھر ان سے سرگوشی میں کچھ کہا تو وہ رو پڑیں۔ میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں اپنی بات کے لیے خاص کیا، پھر تم رو رہی ہو؟ پھر آپ ﷺ نے پھر سرگوشی کی تو وہ ہنس پڑیں، تو میں نے کہا: میں نے آج جیسی خوشی، غم کے اتنے قریب کبھی نہیں دیکھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش نہیں کر سکتی۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے پھر پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کی اور فرمایا: ”جبریل ہر سال ایک بار مجھ سے قرآن کا دور کرتے تھے، اور اس سال انہوں نے دو بار دور کیا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت آ گیا ہے، اور تم میرے اہل بیت میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی، اور میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں۔“ تو میں اس پر رو پڑی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم امت کی، یا مسلمان عورتوں کی سردار بنو؟“ تو میں اس پر ہنس پڑی۔