حدیث نمبر: 19232
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ قَالَتْ: «يَا أَنَسُ كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسَكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جُنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ»
ترجمہ

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے انس! تمہارے دل کیسے راضی ہوئے کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟ ہائے میرے ابا جان! اپنے رب سے کتنے قریب ہیں۔ ہائے میرے ابا جان! جنت الفردوس ان کا ٹھکانہ ہے۔ ہائے میرے ابا جان! ہم جبریل کو ان کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔ ہائے میرے ابا جان! انہوں نے اپنے رب کی پکار کا جواب دیا جس نے انہیں بلایا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19232
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 416، حدیث 1029