المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا حسن أبو حسن الأنصاري ثم المازني بدري عقبي باب: جن کی کنیت ابوحسن ہے — سیدنا ابوحسن انصاری مازنی رضی اللہ عنہ، بدری اور عقبہ کے شرکاء میں سے
حدیث نمبر: 19183
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ح وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: ثنا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَاشِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا عَقَبِيًّا، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ وَنَسِيَ نَعْلَيْهِ فَأَخَذَهُمَا رَجُلٌ فَوَضَعَهُمَا تَحْتَهُ فَرَجَعَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: نَعْلِي، فَقَالَ: الْقَوْمُ مَا رَأَيْنَاهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ ذِهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بروعةِ الْمُؤْمِنِ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَاعِبًا، فَقَالَ: «كَيْفَ بروعةِ الْمُؤْمِنِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا»ترجمہ
…ایک آدمی کھڑا ہوا اور اپنے جوتے بھول گیا، تو ایک شخص نے انہیں اٹھا کر اپنے نیچے رکھ لیا، جب وہ آدمی واپس آیا تو کہا: میرے جوتے کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہم نے نہیں دیکھے۔ تو ایک آدمی نے کہا: یہ رہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کو خوفزدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تو مذاق میں کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کو خوفزدہ کرنے کا کیا حکم ہے؟“ یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔