المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا فسيلة أبو فسيلة باب: جن کی کنیت ابوفسیلہ ہے — سیدنا ابوفسیلہ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19158
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو خِدَاشٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ، مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ»ترجمہ
سیدہ فسیلہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا ابوفسیلہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا کسی آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت (قومیت پرستی) میں شامل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ظلم میں مدد کرے۔“