❮
❯
حدیث نمبر: 19155
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ زَامِلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ إِلَى الْعِيدِ وَعَنْ يَمِينِهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعَنْ يَسَارِهِ عُمَرُ، أَوْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَمَّا فَرَغَ مَرَّ عَلَى بَابِ أَبِي كَثِيرٍ أَوْ أَبِي كَبِيرٍ، وَاللَّحَّامُونَ بِفِنَائِهَا، وَالنَّاسُ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَقَالَ لَهُمْ: «كَيْفَ تَبِيعُونَ؟» قَالُوا: كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ، وَلَا تَخْلِطُوا مَيِّتَةً بِمَذْبُوحَةٍ عَلَى النَّاسِ، أَيُّهَا النَّاسُ، احْفَظُوا لَا تَحْتَكِرُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَلْقُوا السِّلَعَ وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ إِنَاءَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ

زامل بن عمرو کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن عید کے لیے نکلے، آپ ﷺ کے دائیں جانب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور بائیں جانب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، یا (راوی نے) ابن عمر رضی اللہ عنہما (کا نام لیا)، تھے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ابوکثیر یا ابوکبیر کے دروازے سے گزرے، جہاں قصاب اس کے صحن میں تھے، اور لوگ نئے نئے جاہلیت سے نکلے تھے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم کیسے بیچتے ہو؟“ انہوں نے بتایا: اس اس طرح۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جیسے چاہو بیچو، لیکن لوگوں پر مردار گوشت کو ذبح شدہ گوشت میں نہ ملاؤ۔ اے لوگو! یاد رکھو: ذخیرہ اندوزی نہ کرو، قیمت بڑھانے کے لیے جھوٹی بولی نہ لگاؤ، شہر سے باہر مال والوں سے ملاقات کر کے کم قیمت پر نہ خریدو، کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے جب تک وہ اجازت نہ دے، اور کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا برتن (اپنے لیے) خالی کر لے، بلکہ وہ (کہیں اور) نکاح کر لے، کیونکہ اس کا رزق اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 382، حدیث 952