المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا عطية أبو عطية باب: جن کی کنیت ابوعطیہ ہے — سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمِلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْخَيْرِ» فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ حَرَسْتُ مَعَهُ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَلَمَّا أُدْخِلَ الْقَبْرَ حَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ مِنَ التُّرَابِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَصْحَابَكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «لَا تَسَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ سَلْ عَنِ الْفِطْرَةِ»سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور بیان کیا کہ ایک آدمی فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے اسے کوئی نیک عمل کرتے دیکھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے ایک رات اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں پہرہ دیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی کھڑے ہوئے، جب اسے قبر میں اتارا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مٹی ڈالی، پھر فرمایا: ”تمہارے ساتھی گمان کرتے ہیں کہ تم جہنمیوں میں سے ہو، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جنتیوں میں سے ہو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”لوگوں کے اعمال کے بارے میں مت پوچھو، بلکہ فطرت کے بارے میں پوچھو۔“