حدیث نمبر: 19138
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّمَادِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الْعَنْسِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الدَّيِّنِ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْأَشْعَرِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَمَسَّكُوا بِطَاعَةِ أَئِمَّتِكُمْ وَلَا تُخَالِفُوهُمْ، فَإِنَّ طَاعَتَهُمْ طَاعَةَ اللهِ، وَإِنَّ مَعْصِيتَهُمْ مَعْصِيَةُ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ إِنَّمَا بَعَثَنِي أَدْعُو إِلَى سَبِيلِهِ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، فَمَنْ خَلَفَنِي فِي ذَاكَ فَهُوَ وَلِيِّي، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِكُمْ شَيْئًا فَعَمِلَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَسَيَلِيكُمْ أُمَرَاءُ إِنِ اسْتُرْحِمُوا لَمْ يَرْحَمُوا، وَإِنْ سُئِلُوا الْحُقُوقَ لَمْ يُعْطُوا، وَإِنْ أُمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ أَنْكَرُوا وَسَتُجَافُونَهُمْ وَيَتَفَرَّقُ مَلَأُكُمْ حَتَّى لَا يَحْمُلُوكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا احْتَمَلْتُمْ عَلَيْهِ طَوْعًا أَوْ كَرْهًا فَأَدْنَى الْحَقِّ لَكُمْ أَنْ لَا تَأْخُذُوا لَهُمْ عَطَاءً وَلَا تَحْضُرُوا لَهُمْ فِي الْمَلَأِ»
ترجمہ

سیدنا ابولیلیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حکمرانوں کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور ان کی مخالفت نہ کرو، کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے، اور اللہ نے مجھے صرف اس لیے بھیجا ہے کہ میں حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اس کے راستے کی طرف بلاؤں، تو جو شخص اس میں میرا جانشین ہو وہ میرا دوست ہے، اور جو شخص تمہارے کسی معاملے کا ذمہ دار ہو اور اس کے خلاف عمل کرے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ اگر ان سے رحم مانگا جائے تو رحم نہیں کریں گے، اگر ان سے حقوق مانگے جائیں تو نہیں دیں گے، اور اگر انہیں نیکی کا حکم دیا جائے تو انکار کریں گے، تو تم ان سے دور رہو گے اور تمہاری جماعت بکھر جائے گی، یہاں تک کہ وہ تم پر جو کچھ بھی مسلط کریں گے تم اسے خوشی سے یا ناخوشی سے برداشت کرو گے۔ تو تمہارے لیے سب سے کم درجے کا حق یہ ہے کہ نہ تم ان کی طرف سے عطیہ لو اور نہ ان کے ساتھ مجلس میں حاضر ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19138
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 373، حدیث 935