المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا مجيبة أبو مجيبة الباهلي باب: جن کی کنیت ابومجیبہ ہے — سیدنا ابومجیبہ باہلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ مُجِيبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي جِئْتُكَ عَامَ أَوَّلَ، قَالَ: «فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِنَهَارٍ مُنْذُ بَايَعْتُكَ، فَقَالَ: «مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَقْوَى، قَالَ: «صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ» ، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى قَالَ: «صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ»سیدنا ابومجیبہ باہلی رضی اللہ عنہ کے بیٹے مجیبہ، اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں (راوی کو شک ہے) کہ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں وہی شخص ہوں جو پہلے سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ میں تمہارا جسم دبلا دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب سے میں نے آپ سے بیعت کی ہے، دن میں کچھ نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب دو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں طاقتور ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کا مہینہ (رمضان) اور اس کے بعد دو دن روزہ رکھو۔“ میں نے عرض کیا: میں طاقتور ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبر کا مہینہ اور اس کے بعد تین دن روزہ رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں بھی روزہ رکھو۔“