حدیث نمبر: 19097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَدَنِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَطِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزَّوَائِدِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَجَعَلَ يَقُولُ لَهُمُ: «افْعَلُوا كَذَا وَافْعَلُوا كَذَا وَاجْتَنِبُوا كَذَا وَاجْتَنِبُوا كَذَا» ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُمْ: «هَلْ بَلَّغْتَ؟» ، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» ، قَالَهَا ثَلَاثًا وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِيمَا يَقُولُ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا كَانَ عَطَاءً، فَإِذَا تَكَافَحَتْ قُرَيْشٌ الْمُلْكَ فِيمَا بَيْنَهَا فَكَانَ الْعَطَاءُ رِشْوَةً عَلَى دِينِكُمْ فَلَا تَأْخُذُوهُ»
ترجمہ

سیدنا ابوالزوائد یمانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں فرمانے لگے: ”یہ یہ کام کرو اور یہ یہ کام کرو، اور ان ان کاموں سے بچو۔“ پھر ان سے فرماتے: ”کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگ کہتے: جی ہاں۔ تو آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور فرماتے: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ یہ بات آپ ﷺ نے تین بار فرمائی۔ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”عطیہ لو جب تک وہ (خالص) عطیہ ہو، لیکن جب قریش آپس میں اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ تمہارے دین پر رشوت بن جائے تو اسے مت لو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19097
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 356، حدیث 894