المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا الرمداء أبو الرمداء البلوي باب: جن کی کنیت ابورمداء ہے — سیدنا ابورمداء بلوی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19096
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ أَبَا سُلَيْمَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا الرَّمْدَاءَ الْبَلَوِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضُرِبَ، ثُمَّ شَرِبَ الثَّانِيَةَ فَأَتَوْا بِهِ فَضَرَبَهُ، فَلَا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ أُمِرَ بِهِ فَجُعِلَ عَلَى الْعِجْلِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُترجمہ
سیدنا ابورمداء بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی قوم میں سے ایک آدمی نے شراب پی، تو وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے اور اسے سزا دی گئی۔ پھر اس نے دوسری بار شراب پی تو وہ اسے لائے اور آپ ﷺ نے اسے سزا دی۔ (راوی کہتے ہیں) مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تیسری بار کہا یا چوتھی بار، کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے بچھڑے پر بٹھایا گیا اور میں نے اس کی گردن اڑا دی۔