المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري باب: جن کی کنیت ابونملہ ہے — سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19082
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ " هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُ أَعْلَمُ» فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ»ترجمہ
سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آیا اور کہا: اے محمد! کیا یہ جنازہ بات کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بات کرتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب جو کچھ تمہیں بتائیں، نہ اسے سچ سمجھو نہ جھوٹ، اور کہو: ہم اللہ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر حق ہو تو انہیں جھوٹا نہ سمجھو، اور اگر باطل ہو تو انہیں سچا نہ سمجھو۔“