المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا كبشة أبو كبشة الأنماري باب: جن کی کنیت ابوکبشہ ہے — سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، أَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ويُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ودَرَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْبَصْرِيُّ، قَالُوا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ، عَنِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ قَوْمٌ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ فَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، قَالَ: وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: «عَلَامَ تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللهُ عَلَيْهِمْ؟» ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَتَعَجَّبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ؟ رَسُولُ اللهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ بَيْنَكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمِ اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا، فَإِنَّ اللهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا»سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ تبوک ہوا تو کچھ لوگ حجر (ثمود کی بستی) میں داخل ہونے کے لیے جلدی کرنے لگے، تو لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ نماز باجماعت ہوگی۔ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ اپنے اونٹ کو تھامے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: ”تم اس قوم پر کیوں داخل ہو رہے ہو جس پر اللہ نے غضب فرمایا؟“ کہتے ہیں: ایک آدمی نے تعجب سے آپ ﷺ کو پکارا: یا رسول اللہ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتاؤں؟ اللہ کے رسول تم ہی میں سے، تمہارے درمیان ہیں، وہ تمہیں ان باتوں کی خبر دیتے ہیں جو تم سے پہلے تھیں اور جو تمہارے بعد ہوں گی، سیدھے رہو اور درستی اختیار کرو، بے شک اللہ تمہارے عذاب کی کوئی پروا نہیں کرتا۔“