حدیث نمبر: 19051
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ أَزْهَرَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ مَرَّتْ بِهِ امْرَأَةٌ فَقَامَ إِلَى أَهْلِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّهُ قَدْ كَانَ شَيْءٌ، فَقَالَ: «نَعَمْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ، فَقُمْتُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِي، وَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا، فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ»
ترجمہ

سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت وہاں سے گزری، تو آپ ﷺ اپنے اہل کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے، پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ (پسینے کے قطرے) ٹپک رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! گویا کوئی بات ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، فلانی عورت میرے پاس سے گزری تو میرے دل میں عورتوں کی خواہش پیدا ہوئی، چنانچہ میں اپنی کسی بیوی کے پاس گیا، تم بھی ایسا ہی کیا کرو، کیونکہ حلال کے پاس جانا تمہارے بہترین اعمال میں سے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19051
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 338، حدیث 848