المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا المعلى أبو المعلى الأنصاري باب: جن کی کنیت ابوالمعلیٰ ہے — سیدنا ابوالمعلیٰ انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، وعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ مِنْهَا يَأْكُلُ مِنْهَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ» ، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ؟ ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمِنَ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتَ يَدِهِ مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنْ وَدَّ وَأَخَا إِيمَانٍ، وَإِنْ صَاحَبَكُمْ خَلِيلُ اللهِ»سیدنا ابومعلی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”ایک بندے کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں جتنا چاہے زندگی گزارے اور اس میں سے کھائے، یا اپنے رب سے ملاقات کرے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو اختیار کر لیا۔“ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کہنے لگے: کیا تم اس بزرگ پر تعجب نہیں کرتے؟ رسول اللہ ﷺ نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جسے اس کے رب نے دنیا اور اپنی ملاقات کے درمیان اختیار دیا اور اس نے اپنے رب سے ملاقات کو اختیار کیا، حالانکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان سب سے زیادہ اس بات کو سمجھتے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ پر اپنے مال اور اپنی اولاد قربان کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کوئی بھی اپنی رفاقت اور اپنے مال کے معاملے میں ہم پر ابن ابی قحافہ جتنا معتمد نہیں، اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا، لیکن ہمارے درمیان محبت اور ایمانی بھائی چارہ ہے، اور تمہارے ساتھی اللہ کے خلیل ہیں۔“