حدیث نمبر: 19002
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ شَيْءٌ فَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَبَسَكَ؟» قَالَ: قَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ»
ترجمہ

سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے ہاں کچھ حالات پیش آئے جس کی وجہ سے وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آنے سے رک گئے، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے یہ آیت پڑھی: ”اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو، جب تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہو اس کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی“ [سورۃ المائدہ: 105]۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جب تم ہدایت پر ہو تو کافروں میں سے جو گمراہ ہو اس کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19002
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 317، حدیث 799