حدیث نمبر: 18965
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: «إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِنِّي أَمَّرْتُهُ عَلَى أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى صَدَقَةِ الْمُهَاجِرِينَ فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ وَذَا اللِّسَانِ وَذَا الشُّرَفِ وَإِنِّي قَدْ نَزَعْتَهُ وَأَثْبَتُّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ» ، فَقَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصٍ: «وَاللهِ مَا عَدَلْتَ، نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ» فَقَالَ عُمَرُ: «إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ، حَدِيثُ السِّنِّ»
ترجمہ

سیدنا ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ...ناشرہ بن سمی کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن یہ کہتے سنا: میں تم سے خالد بن ولید کے بارے میں معذرت چاہتا ہوں، میں نے انہیں اس بات پر امیر بنایا تھا کہ وہ مہاجرین کے صدقے کے اس مال کو روک رکھیں، تو انہوں نے وہ بہادر، زبان آور اور معزز شخص کو دے دیا، اور میں نے انہیں معزول کر کے ابوعبیدہ بن جراح کو مقرر کیا ہے۔ اس پر ابوعمرو بن حفص نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے انصاف نہیں کیا، آپ نے ایسے عامل کو معزول کیا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مقرر کیا تھا، اور ایسی تلوار میان میں ڈال دی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے سونتا تھا، اور ایسا جھنڈا اتار دیا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے نصب کیا تھا، اور آپ نے اپنے چچا زاد سے حسد کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم رشتے میں قریب اور عمر میں کم سن ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 18965
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 299، حدیث 761