المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عياض أبو أشرس السلمي، عن يعلى بن مرة باب: عیاض ابواشرس سلمی کی سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عِيَاضٍ أَبِي أَشْرَسَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ دَعْوَتُهُ إِلَى مَأْدُبَةٍ فَقَعَدَ صَائِمًا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْكُلُونَ وَلَا يَطْعُمُ، فَقُلْتُ لَهُ: وَاللهِ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ صَائِمٌ مَا عَتَبْنَاكَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَجِبْ أَخَاكَ فَإِنَّكَ مِنْهُ عَلَى اثْنَتَيْنِ إِمَّا خَيْرٌ فَأَحَقُّ مَا شَهِدْتَهُ، وَإِمَّا غَيْرُهُ فَتَنْهَاهُ عَنْهُ وَتَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ»عیاض ابواشرس سلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں نے انہیں ایک دعوت میں بلایا تو وہ روزے کی حالت میں (آ کر) بیٹھ گئے۔ لوگ کھانے لگے مگر وہ نہیں کھا رہے تھے، تو میں نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ روزے سے ہیں تو ہم آپ کو ملامت نہ کرتے۔ انہوں نے فرمایا: ایسا نہ کہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو، کیونکہ تمہارا اس کے ساتھ دو میں سے ایک معاملہ ہوگا: یا تو وہ بھلائی کا کام ہوگا جس میں تمہاری شرکت زیادہ حق دار ہے، یا اس کے سوا کچھ اور ہوگا تو تم اسے اس سے منع کر دو اور بھلائی کا حکم دو۔“