المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يعلى بن أمية التميمي حليف بني نوفل بن عبد مناف وهو يعلى بن أمية بن أبي عبيدة بن همام بن الحارث بن بكر بن زيد بن مالك بن زيد مناة بن تميم، وأمه منية بنت غزوان السلمية أخت عتبة بن غزوان ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى، عن أبيه باب: سیدنا یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ، بنو نوفل بن عبدمناف کے حلیف (آپ یعلیٰ بن امیہ بن ابی عبیدہ بن ہمام بن حارث بن بکر بن زید بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم ہیں، آپ کی والدہ منیہ بنت غزوان سلمیہ، عتبہ بن غزوان کی بہن تھیں) — سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی مرویات — صفوان بن یعلیٰ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 18870
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَدْرٍ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ وَمَعِي أَجِيرٌ لِي، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا فَعَضَّهُ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «أَتُدَعُ يَدُهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ» فَأَهْدَرَهَاترجمہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں ایک سرکش اونٹ پر سفر کیا، میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا۔ میرے مزدور کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی، اس شخص نے اسے کاٹا تو مزدور نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا جس سے اس کا دانت گر گیا۔ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دے کہ تم اسے اس طرح چباؤ جیسے نر اونٹ چباتا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس دانت کو کالعدم قرار دے دیا۔