حدیث نمبر: 18870
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَدْرٍ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ وَمَعِي أَجِيرٌ لِي، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا فَعَضَّهُ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «أَتُدَعُ يَدُهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ» فَأَهْدَرَهَا
ترجمہ

سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں ایک سرکش اونٹ پر سفر کیا، میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا۔ میرے مزدور کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی، اس شخص نے اسے کاٹا تو مزدور نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا جس سے اس کا دانت گر گیا۔ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دے کہ تم اسے اس طرح چباؤ جیسے نر اونٹ چباتا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اس دانت کو کالعدم قرار دے دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18870
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 250، حدیث 650