المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يعلى بن أمية التميمي حليف بني نوفل بن عبد مناف وهو يعلى بن أمية بن أبي عبيدة بن همام بن الحارث بن بكر بن زيد بن مالك بن زيد مناة بن تميم، وأمه منية بنت غزوان السلمية أخت عتبة بن غزوان ما أسند يعلى بن أمية صفوان بن يعلى، عن أبيه باب: سیدنا یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ، بنو نوفل بن عبدمناف کے حلیف (آپ یعلیٰ بن امیہ بن ابی عبیدہ بن ہمام بن حارث بن بکر بن زید بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم ہیں، آپ کی والدہ منیہ بنت غزوان سلمیہ، عتبہ بن غزوان کی بہن تھیں) — سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی مرویات — صفوان بن یعلیٰ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ فَكَانَ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَاسْتَأْجُرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا وَقَالَ: «أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ»سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں ایک سرکش جوان اونٹ پر شرکت کی، اور یہ (غزوہ) میرے نزدیک میرے سب سے قابلِ اعتماد اعمال میں سے تھا۔ میں نے ایک مزدور کو اجرت پر رکھا تھا، تو میرے مزدور کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے میرے مزدور کا ہاتھ کاٹ لیا، تو میرے مزدور نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا جس سے اس (کاٹنے والے) کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ (کاٹنے والا) نبی کریم ﷺ کے پاس مقدمہ لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اسے (دانت کا معاوضہ) کالعدم قرار دے دیا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دے کہ تم اسے نر اونٹ کے چبانے کی طرح چباؤ؟“