❮
❯
حدیث نمبر: 18869
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ فَكَانَ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي وَاسْتَأْجُرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَهَا وَقَالَ: «أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ»
ترجمہ

سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں ایک سرکش جوان اونٹ پر شرکت کی، اور یہ (غزوہ) میرے نزدیک میرے سب سے قابلِ اعتماد اعمال میں سے تھا۔ میں نے ایک مزدور کو اجرت پر رکھا تھا، تو میرے مزدور کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے میرے مزدور کا ہاتھ کاٹ لیا، تو میرے مزدور نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیا جس سے اس (کاٹنے والے) کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ (کاٹنے والا) نبی کریم ﷺ کے پاس مقدمہ لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اسے (دانت کا معاوضہ) کالعدم قرار دے دیا اور فرمایا: ”کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دے کہ تم اسے نر اونٹ کے چبانے کی طرح چباؤ؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18869
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 250، حدیث 649