المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
أبو إدريس الخولاني، عن أبي ثعلبة باب: ابوادریس خولانی کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِبْرِيقٍ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ: أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ عَائِذَ اللهِ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَعَّدَ فِيهِ الْبَصَرَ وَصَوَّبَ، ثُمَّ قَالَ: «نويبة» ، فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ: نويبة خَيْرٍ أَمْ نويبة شَرٍّ، قَالَ: «نويبة خَيْرٍ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ فِيهَا الصَّيْدُ، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهُ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟، فَقَالَ: «حِمَارُ الْأَهْلِيِّ وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ، وَمَا رَدَّتْ إِلَيْكَ قَوْسُكَ وَكَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ فَهُوَ لَكَ حَلَالٌ» ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ وَعَنْ آنِيَتِهِمْ فَقَالَ: «إِنْ وَجَدْتَ عَنْهَا غِنًى فَلَا تَقْرَبْهَا، وَإِنِ احْتَجْتَ إِلَيْهَا فَاغْسِلْهَا ثُمَّ كُلْ فِيهَا وَاشْرَبْ»سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر فرمایا: ”نُویبہ (ایک چھوٹی جماعت)۔“ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اچھی نُویبہ ہے یا بری؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی نُویبہ۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جہاں شکار ہوتا ہے، تو اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پالتو گدھا اور ہر کچلی والا درندہ حرام ہے، اور جو تمہاری کمان اور تمہارا سدھایا ہوا کتا تمہاری طرف لوٹا لائے وہ تمہارے لیے حلال ہے۔“ پھر انہوں نے اہلِ کتاب کے کچھ معاملات اور ان کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان سے بےنیازی مل جائے تو ان کے قریب مت جاؤ، اور اگر تمہیں ان کی ضرورت پڑے تو انہیں دھو لو، پھر ان میں کھاؤ اور پیو۔“