❮
❯
حدیث نمبر: 1876
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَكَانَ إِذَا أُتِيَ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ مِنْهُ أَرْسَلَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ وَفِيهِ ثُومٌ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ» ، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ
ترجمہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے، تو جب بھی آپ ﷺ کے پاس کھانا لایا جاتا اور آپ ﷺ اس میں سے تناول فرماتے تو باقی ماندہ ابوایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، تو ایک بار آپ ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ نہ کھایا اور اسے ابوایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اس میں سے نہیں کھایا، کیونکہ انہوں نے اس میں نبی کریم ﷺ کا نشان نہیں دیکھا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ، کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا: ”نہیں، لیکن میں نے اسے بو کی وجہ سے ناپسند کیا“، انہوں نے کہا: تو میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں جسے آپ ﷺ نے ناپسند کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1876
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 217، حدیث 1889