حدیث نمبر: 18628
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: «لَمَّا افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَجِيئُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ وَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ، وَأَنَا مُتَطَيِّبٌ بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمْسَحْ رَأْسِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِخَلُوقٍ فَلَمْ يَمْسَحْ رَأْسِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: هَكَذَا رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَالصَّوَابُ عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ
ترجمہ

سیدنا ولید بن عقبہ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ ﷺ کے پاس لانے لگے، آپ ﷺ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔ مجھے بھی آپ ﷺ کے پاس لایا گیا جبکہ میں خلوق لگائے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے میرا سر نہیں چھوا، اور آپ ﷺ کو اس سے روکنے والی صرف یہی بات تھی کہ میری ماں نے مجھے خلوق لگا رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے صرف اسی خلوق کی وجہ سے میرا سر نہیں چھوا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن ابی الزرقاء نے اسے جعفر سے، انہوں نے ثابت بن حجاج سے، انہوں نے عبداللہ ہمدانی سے، انہوں نے ابوموسیٰ سے، انہوں نے ولید بن عقبہ سے اسی طرح بیان کیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ یہ عبداللہ ہمدانی ابوموسیٰ ہی سے، اور وہ ولید بن عقبہ سے مروی ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18628
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 151، حدیث 408