المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي، عن وابصة باب: شعبی کی سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18614
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ يُصَلِّي خَلْفَ الْقَوْمِ وَحْدَهُ فَقَالَ: «أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ، أَلَا تَكُونَ وَصَلْتَ صَفًّا فَدَخَلْتَ مَعَهُمْ أَوِ اجْتَرَرْتَ رَجُلًا إِلَيْكَ إِنْ ضَاقَ بِكَ الْمَكَانُ أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لَكَ»ترجمہ
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص لوگوں کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اکیلے نماز پڑھنے والے! کیا تم کسی صف سے مل کر ان کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے تھے، یا اگر جگہ تنگ ہوتی تو کسی آدمی کو اپنی طرف کھینچ نہیں سکتے تھے؟ اپنی نماز دہراؤ، کیونکہ تمہاری یہ نماز نہیں ہوئی۔“